NUML LIBRARY RAWALPINDI (National University of Modern Languages)

  • Home
  • Information
  • News
  • Help
  • Librarian
  • Member Area
  • Select Language :
    Arabic Bengali Brazilian Portuguese English Espanol German Indonesian Japanese Malay Persian Russian Thai Turkish Urdu

Search by :

ALL Author Subject ISBN/ISSN Advanced Search

Last search:

{{tmpObj[k].text}}
Image of Patras Kay Mazameen / پطرس کے مضامین
Bookmark Share

Book

Patras Kay Mazameen / پطرس کے مضامین

Patras Bukhari - Personal Name;

پطرس کے مضامین میں ظرافت عام رواج سے ہٹ کر ہے۔ اور اس کا آغاز مختصر دیباچے ہی سے ہوتا ہے:
”اگر یہ کتاب آپ کو کسی نے مفت بھیجی ہے تو مجھ پر احسان کیا ہے اگر آپ نے کہیں سے چرائی ہے تو میں آپ کے ذوق کی داد دیتا ہوں اپنے پیسوں سے خریدی ہے تو مجھے آپ سے ہمدردی ہے (یعنی آپ کی حماقت سے ہمدردی ہے) اب مصلحت یہی ہے (کہ آپ اپنی حماقت کونبا ہیں) اور اسے حق بجانب ثابت کریں“۔ نہ معلوم یہ حقیقت ہے یا میری شک بھری طبیعت کہ پطرس کے اظہار حقیقت کی تہ میں بھی ظرافت کی ایک لہر دوڑی ہوئی ہے کیونکہ اپنے استاد کی خدمت میں اعترافِ ممنونیت ان الفاظ میں کیاہے: ”اس کتاب پر نظر ثانی کی اور اسے بعض لغزشوں سے پاک کیا“ جس کا مفہوم میرے نزدیک اس کے سوا نہیں ہوسکتا کہ جہاں کوئی بات ہوش مندی کی دیکھی اسے حماقت میں بدل دیا۔
کتاب میں گیارہ مضامین ہیں جو بہ ظاہر ”ہولا خبطا پن“ کے شاہکار ہیں مگر فی الحقیقت سوسائٹی اور تمدن کی دکھتی رگوں کو چھوا ہے اور خامکاریوں اور سفیہانہ رواسم وتوہمات کا پردہ فاش کیا ہے۔ پطرس نے اپنا مطلب زیادہ تر مزاح میں طنز کی پُٹ دے کر نکالا ہے۔ بخلاف دیگر ظرافت نگاروں کے جو تمسخر کو آلہٴ کار بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مضامین میں باوجود اس احساس کے کہ ہم کو (اور معاف کیجئے گا آپ کو) بےدال کا بودم بنایا جا رہا ہے جھنجھلاہٹ کے بجائے گدگدانے کی ادا نکلتی ہے اور اسی کے ساتھ غو وتعمق کی دعوت ہوتی ہے۔
ان مضامین کے کاتب کو بھی ظرافت سے کافی بہرہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ علاوہ دیگر مخترعات کے ”ہاسٹل میں پڑھنا“ کے عنوان کو ہر جگہ ”ہاسٹل پر پڑنا“بنا دیا ہے۔ مضمون میں ظرافت کی چاشنی پہلے ہی فقرے سے شروع ہے:
”ہم نے کالج میں تعلیم تو ضرور پائی اور رفتہ رفتہ بی اے بھی پاس کر لیا“۔ رفتہ رفتہ اور بھی کی معنویت دعوت نظر دیتی ہے آگے چل کر بی اے کے خانے اس خوبی سے گنوائے ہیں کہ بایدوشاید۔
مضمون میں ایسے خاندان کی ذہنیت کا خاکہ ہے جو مہذب اور اخلاق پسندیدہ کا مالک ہونے کے باوصف قدامت پسند ہے اور حال کو ماضی کے آئینہ میں مشتبہ نظروں سے دیکھتا ہے۔ لڑکے نے انٹرنس کا امتحان تیسرے درجے میں پاس کیا ہے تاہم خوشیاں منائی جا رہی ہیں دعوتیں ہو رہی ہیں۔ مٹھائی تقسیم کی جا رہی ہے۔ خاندان خوش حال ہے مگر باوجود استطاعت کے لڑکے کو مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے ولایت نہ بھیجنے کی معقول ترین وجہ یہ ہے کہ گردو نواح سے کسی کا لڑکا ابھی تک ولایت نہ گیا تھا“۔
بڑی ہمت کی تو لڑکے کو لاہور بھیج دیا مگرہاسٹل کے بجائے ایک ایسے اجنبی عزیز کے یہاں قیام کا فیصلہ کیا جاتا ہے جس سے رشتہ داری کی نوعیت معلوم کرنے کے لئےخاندانی شجرے کی ورق گردانی کرنا پڑتی ہے تاہم ہاسٹل پر اس کے گھر کو یہ کہہ کر ترجیح دی جاتی ہے کہ ”گھر پاکیزگی اور طہارت کا ایک کعبہ اور ہاسٹل گناہ ومعصیت کا دوزخ ہے“ ضمناً نفسیات کے اس پہلو پر روشنی پڑی کہ جذبات کو دبا کر تحت الشعور میں دھکیل دینا ان کو دُند مچانے کے لئے آزاد چھوڑ دینا اور ارتفاع میں مشکلیں حائل کرنایا ارتفاع سے محروم کر دینا ہے۔ پطرس کے الفاظ میں:
”اس سے تحصیل علم کا جو ایک ولولہ ہمارے دل میں اُٹھ رہا تھا وہ کچھ بیٹھ سا گیا۔ ہم نے سوچا ماموں لوگ (ماموں قسم کے لوگ؟) اپنی سرپرستی کے زعم میں والدین سے بھی زیادہ احتیاط برتیں گے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارے دماغی اور روحانی قوےٰ کو پھلنے پھولنے کا موقع نہ ملے گا اور تعلیم کا اصل مقصد فوت ہوجائے گا۔ چنانچہ وہی ہوا“۔
بعد ازاں اس ”وہی ہوا“ کی شرح ہے۔ امتحانات میں پےدر پے فیل ہونا، صلاحیتوں کی بےراہ روی اختیار کرنا۔ صاف گوئی اور راستبازی کاکج مج راستے اختیار کرنا۔ غسل خانے میں چھپ چھپ کر سگریٹ پینا۔ المختصر وہ آزادی وفراخی ووارفتگی نصیب نہ ہوئی جو تعلیم کا اصل مقصد ہے“۔
پطرس نے مسئلے کے اس پہلو کو ظریفانہ انداز میں اس حسن وخوبی سے وضاحت کی ہے کہ طبیعت عش عش کرتی ہے۔ تفصیل میں جانا مضمون کی لذتیت کو فنا کر دینا ہے۔ پڑھئے اور لطف اندوز ہوجائے۔
کتاب کا مقصد بھی غالباً فوت ہو جائے گا اس کے مضامین کی چیر پھاڑ کی گئی۔ کتاب انگریزی کے اس مقولے کی بہترین ترجمان ہے کہ مذاق کے پردے میں بہت سی سنجیدہ باتیں کہہ دی جاتی ہیں۔First published January 1, 1930


Availability
#
Location name is not set Location name is not set
14064
Available
Detail Information
Series Title
-
Call Number
891.4393
Publisher
Lahore : ILM O IRFAN., 2024
Collation
112
Language
Indonesia
ISBN/ISSN
-
Classification
891.4393
Content Type
-
Media Type
-
Carrier Type
-
Edition
32nd
Subject(s)
Urdu Literature Novel
Specific Detail Info
-
Statement of Responsibility
Patras Bukhari
Other version/related

No other version available

File Attachment
No Data
Comments

You must be logged in to post a comment

NUML LIBRARY RAWALPINDI (National University of Modern Languages)
  • Information
  • Services
  • Librarian
  • Member Area

About Us

As a complete Library Management System, SLiMS (Senayan Library Management System) has many features that will help libraries and librarians to do their job easily and quickly. Follow this link to show some features provided by SLiMS.

Search

start it by typing one or more keywords for title, author or subject

Keep SLiMS Alive Want to Contribute?

© 2026 — Senayan Developer Community

Powered by SLiMS
Select the topic you are interested in
  • Computer Science, Information & General Works
  • Philosophy & Psychology
  • Religion
  • Social Sciences
  • Language
  • Pure Science
  • Applied Sciences
  • Art & Recreation
  • Literature
  • History & Geography
Icons made by Freepik from www.flaticon.com
Advanced Search
Where do you want to share?